ساتھیو تم حوصلہ اپنا دکھاتے کیوں نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ساتھیو تم حوصلہ اپنا دکھاتے کیوں نہیں
کامیابی کے لئے تم آگے آتے کیوں نہیں
یہ ہنر مندوں کی دنیا ہے تو اس دنیا میں کیوں
آگے بڑھ کر نام اپنا تم لکھاتے کیوں نہیں
بے حسی کا زہر پی کر نوجواں سوتے گئے
آپ ہی اپنی خودی سے جگمگاتے کیوں نہیں
توڑ ڈالیں گے زمانے کی سبھی ہم بندشیں
کم نہیں ہیں ہم کسی سے یہ جتاتے کیوں نہیں
تم کو حق مل جائے گا فیضیؔ مگر یہ شرط ہے
حوصلہ تم بازؤوں کا اب دکھاتے کیوں نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





