زندگی نے مجھے دیا کیا کیا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
زندگی نے مجھے دیا کیا کیا
دونوں ہاتھوں سمیٹتا کیا کیا
وہ اشاروں میں کہ گیا کیا کیا
ہم نے سمجھا بھلا برا کیا کیا
کاش! میں عشق بھی نہیں کرتا
ہائے حسرت! نہ کر سکا کیا کیا
جب سے عینک لگائی ہے دل کی
کیا بتاؤں، مجھے دکھا کیا کیا
ہم نے دیکھا اٹھا کے پردۂ وہم
پاس رہ کر بھی دور تھا کیا کیا
گھس کے جب تک یہ سرخ رو نہ ہوئی
رنگ لاتی رہی حنا کیا کیا
بند صندوق کی طرح ہیں لوگ
کیا پتا کس میں ہے رکھا کیا کیا
فتنہ پرور, ہوا پرست, لعین
اہل حق کو کہا گیا کیا کیا
میں نے ہاتھوں میں جب لیا پتھر
آئینے نے دکھا دیا کیا کیا
عکس پر مجھ کو بھی تعجب ہے
دیکھتا ہے یہ آئینہ کیا کیا
میں نے اک بار کہ دیا تھا سچ
اور لوگوں نے پھر کہا کیا کیا
ہر نظارہ نیا نیا سا ہے
دکھ رہا ہے ترے بنا کیا کیا
شاد جی! کچھ حساب رکھا ہے
عشق پر خرچ ہو گیا کیا کیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





