ہر لمحہ، ہر آن ہوئے ہم
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہر لمحہ، ہر آن ہوئے ہم
تیرے لیے قربان ہوئے ہم
جب سے تیری قربت پائی
دو قالب اک جان ہوئے ہم
جب بھی آئی یاد تمھاری
رو رو کر ہلکان ہوئے ہم
زخموں کے اب پھول کھلیں گے
کانٹوں کے مہمان ہوئے ہم
کیوں کر تیری فکر ستائے
خود سے جب انجان ہوئے ہم
کوئی رو کر یاد کرے ہے
سن کر یہ حیران ہوئے ہم
مانی ہے ہر بات تمھاری
پھر بھی نافرمان ہوئے ہم؟
حاتم! ایسے تاڑ رہے ہیں
گویا پاکستان ہوئے ہم
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
K
Kashif Shakeel
4 فروری، 2019بہت خوب حاتم بھائی





