جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

محبت جتانے کو جی چاہتا ہے

کلام: کاشف شکیل29 جنوری، 20192,126قارئین2 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
محبت جتانے کو جی چاہتا ہے
یہ فن آزمانے کو جی چاہتا ہے
بہت ہو چکا لن ترانی کا قصہ
یہ چلمن اٹھانے کو جی چاہتا ہے
جنھیں ڈھونڈتے تھے وہ اب روبرو ہیں
نگاہیں چرانے کو جی چاہتا ہے
بدن چھلنی کر کے، جگر زخمی کر کے
بہت مسکرانے کو جی چاہتا ہے
مہ و مہر و انجم، گل و جاسمیں کو
ترے در جھکانے کو جی چاہتا ہے
دہکتا ہوا رُخ، سلگتے ہوئے لب
یہیں دل جلانے کو جی چاہتا ہے
جو محشر کی مانند بکھری ہیں رخ پر
وہ زلفیں ہٹانے کو جی چاہتا ہے
اے کاشف یہ کیسی تری خستگی ہے
کہ خود کو مٹانے کو جی چاہتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (2)

A
Abdur Rahman khan Noori
29 جنوری، 2019
بہت
O
Oomer riyaloo
29 جنوری، 2019
Mash

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

محبت جتانے کو جی چاہتا ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر