چھبیس جنوری ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مہکی ہوئی فضا ہے، خوشبو بکھر رہی ہے
چھبیس جنوری ہے، چھبیس جنوری ہے
اس باغ کے مناظر پریاں بھی تک رہی ہیں
بھنوروں کے پاس کلیاں خود ہی مٹک رہی ہیں
ہر سو بہار آئی، چڑیاں چہک رہی ہیں
لمحوں میں پنکھڑی بھی گلنار ہو رہی ہے
چھبیس جنوری ہے، چھبیس جنوری ہے
اے بلبلو! اٹھو اب قومی ترانہ گاؤ
جمہوریت کا نغمہ گلشن میں گنگناؤ
"سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں" سناؤ
اہل وطن کے دل میں احساس برتری ہے
چھبیس جنوری ہے، چھبیس جنوری ہے
ہر بھارتی کے لب پر جاری ہے ایک نعرہ
سارے جہاں سے اونچا پرچم رہے ہمارا
جمہوریت پہ حملہ ہم کو نہیں گوارا
اپنے وطن پہ کاشف! اپنی ہی سروری ہے
چھبیس جنوری ہے، چھبیس جنوری ہے
ہندوستاں منائے فرح و سرور کا دن
آئین کے وطن پر کامل ظہور کا دن
اسلاف کے لہو پر فخر و غرور کا دن
اس دن کی آبرو پر قربان زندگی ہے
چھبیس جنوری ہے، چھبیس جنوری ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
O
Oomer riyaloo
29 جنوری، 2019بہت





