غم کھانا اور آنسو پینا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
غم کھانا اور آنسو پینا
ہم نے سیکھ لیا ہے جینا
ہم نے دیکھا سب کا سینہ
"اتنی رنجش اتنا کینہ"
بات شرافت کی کرتا ہے
ایک سے بڑھ کر ایک کمینا
عشق کی منزل سہل نہیں ہے
کوہ گراں ہے زینہ زینہ
کوئی یونس آ بیٹھا ہے
لرزاں ہے جو دل کا سفینہ
آئینہ ثابت کرتا ہے
کون ہے اندھا کون ہے بینا
مجھ پر کس کا حق تھا ایسا
مجھ کو مجھ سے کس نے چھینا
شغل یہی ہے دیوانوں کا
اپنا گریباں پھاڑ کے سینا
دائیں ہاتھ میں پکڑی تسبیح
تھاما بائیں ہاتھ سے مینا
شاد! شریفوں کی عادت ہے
دھوکے کھانا غصہ پینا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





