جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

جب میں اک پردہ نشیں سے لڑگیا

کلام: بیلن بلرامپوری14 جنوری، 20191,691قارئین10 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
میں سناتا ہوں تمہیں اک ماجرا
کس طرح مشکل میں، اک دن پڑگیا
چل رہا تھا دھن میں ہو کر میں مگن
جا کے اک پردہ نشیں سے لڑگیا
وہ اٹھی اور مجھ پہ گرمانے لگی
داڑھی پر وہ طنز فرمانے لگی
زور سے پھر مجھ پہ چلانے لگی
اتنے میں سینڈل بھی برسانے لگی
میں یہ بولا کہ شریف انسان ہوں
اس قدر تو مت مچائیں شور آپ
اس پہ وہ پردہ نشیں گویا ہوئی
شکل سے تو لگ رہے ہیں چور آپ
سن کے محترمہ کے منہ سے لفظ چور
لوگ دوڑے اور بڑھے سب میری اور
قبل اس کے کچھ میں سمجھاتا انھیں
بے بسی کا حال بتلاتا انھیں
اس طرح سب لوگ مجھ پر پل پڑے
ہر کسی نے منہ پہ دو گھونسے جڑے
ان کا غصہ کم نہ پھر بھی ہوسکا
اس قدر تھا ان میں جوش و ولولہ
خوب دھویا جس کو بھی موقع ملا
ہو گیا تبدیل پھر نقشہ مرا
آ گیا اس میں اک ایسا سر پھرا
وہ تو سیدھا سینے پر ہی چڑھ گیا
بیٹھک اُٹھک مجھ سے کروایا گیا
یہ عمل سوبار دہرایا گیا
کچھ نے پکڑا ہاتھ اور پھر کچھ نے پیر
پھر فضا میں مجھ کو لہرایا گیا
استرے سے بال منڈوایا گیا
چہرے کو بھی کالا کروایا گیا
جوتیوں کا ہار پہنایا گیا
اور گدھے پہ مجھ کو ٹہلایا گیا
جس گلی سے میں کبھی واقف نہ تھا
اس گلی تک مجھ کو لے جایا گیا
کیا بتاؤں شرم کی یہ بات ہے
کچھ حسیناؤں سے پِٹوایا گیا
مارنے کی ان کی تھی ایسی ادا
آرہا تھا جانے کیوں مجھ کو مزا
کر رہا تھا رب سے یہ دل میں دعا
ختم جلدی ہو نہ یہ میری سزا
پھر اچانک کچھ ٹپوری آگئے
آتے ہی وہ لوگ مجھ پر چھا گئے
دے کے وہ اپنی شرافت کی قسم
زندگی کے گر مجھے سمجھا گئے
لڑکیوں سے دور ہی رہنا سدا
تجھ کو تیری جان کا ہے واسطہ
پھر کبھی آیا اگر ہم کو نظر
جان سے جائے گا تو اے بے خبر
عرض کی میں نے نہ گزروں گا کبھی
بھول کر بھی لڑکیوں کے پاس سے
اپنی بیگم کے تعلق سے بھی اب
معذرت کر لوں گا اپنی ساس سے
ڈر کے مارے حال کیسا ہوگیا
پہلے سے میں اور دبلا ہوگیا
بات تو کچھ بھی نہ تھی، دیکھو ذرا
اک غلط فہمی میں کیا کیا ہوگیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (10)

خ
خبیب حسن
3 مارچ، 2019
🤣🤣😍😍
P
Parwez Sadaf
15 جنوری، 2019
ماشاء اللہ اب تو کسی کے سایے کے قریب بھی نہیں جاؤں گا 😄
S
Shaukat Parvez
14 جنوری، 2019
بہت عمدہ! آج مجھے پتہ چلا کہ بیلن بلرامپوری آپ ہیں۔ You have nicely portrayed the ordeal of a person accidentally bumping into a woman and then getting beaten up What an amazing poem
N
Noor
14 جنوری، 2019
ماشاءاللہ اچھا ہوا آپ نے انجام سے آگاہ کردیا ممبرا کی بھیڑ میں تو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے
م
محمد اشرف یاسین
14 جنوری، 2019
واہ ملک بھائی آپ نے ماشاء اللہ بہت شاندار لکھاہے، بیگم سے بیلن کھاتے کھاتے اب آپ دوسری دوشیزاؤں سے پِٹنے لگے اچھی ترقی کی ہےـ
س
سحر محمود
14 جنوری، 2019
بہت خوب کلام پر ڈھیروں داد اور جو روداد آپ نے پیش کی اس پر اللہ آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
ش
شمس الرب خان
14 جنوری، 2019
چھا گئے گرو۔ ویسے اچھا بہانہ ملا ہے، ساس سے معذرت کرنے کے لیے۔۔۔ ھھھھھھھ شکل سے تو لگ رہے ہیں چور آپ۔۔۔ اس نظم کا سب سے سچا مصرعہ ہے 😂😂😂
ر
ریاض مبارک
14 جنوری، 2019
بھائی FIR لکھوایا یا نہیں؟؟ لاجواب! Bravo! Keep it up
ر
ریاض مبارک
14 جنوری، 2019
کیا بات ہے!! بہت خوب قطعات سے بڑھ کر اب سیدھا مرثیہ وہ بھی اپنا ہی!!! لا جواب!!! آپ نے ان۔۔۔۔۔ سب کے خلاف کوئی FIR نہیں درج کرائی؟ یونہی پٹ کے آگئے؟ مارنے کی ان کی تھی ایسی ادا آرہا تھا جانے کیوں مجھ کو مزا کر رہا تھا رب سے یہ دل میں دعا ختم جلدی ہو نہ یہ میری سزا یہ قطعہ تو لاجواب ہے!!! ڈھیروں داد وصول کریں!!
K
Kashif Shakeel
14 جنوری، 2019
اپنی بیگم کے تعلق سے بھی اب معذرت کر لونگا اپنی ساس سے ہہہہہہہہہہہہہہہ لاجواب مزیدار گریٹ

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

جب میں اک پردہ نشیں سے لڑگیا - دی فری لانسر | دی فری لانسر