جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

نہ جانے کہاں وہ ٹھکانا پڑے گا

کلام: عبدالکریم شاد6 جنوری، 20191,334قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نہ جانے کہاں وہ ٹھکانا پڑے گا
جہاں تک ہمیں غم اٹھانا پڑے گا
ہمیں اپنا ظرف آزمانا ہے یارو!
سو ظرفِ عدو آزمانا پڑے گا
اگر جنگ ہے بھیڑیوں سے تو ہم کو
بقا کے لیے زخم کھانا پڑے گا
جو تشخیص کرنی ہے اپنے مرض کی
لہو جسم سے کچھ بہانا پڑے گا
بھٹکتے رہیں یوں ہی کب تک فضا میں
کوئی آشیانہ بنانا پڑے گا
نہ آگے رکھیں ہم زمانے کی خواہش
نہ پیچھے ہمارے زمانہ پڑے گا
جہاں لطف و انصاف و انسانیت ہو
کہاں شاد جی! وہ ٹھکانا پڑے گا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

نہ جانے کہاں وہ ٹھکانا پڑے گا - دی فری لانسر | دی فری لانسر