کس لیے سوچوں کہیں اور میں جانے کے لیے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کس لیے سوچوں کہیں اور میں جانے کے لیے
دل سے بہتر تو نہیں کچھ بھی ٹِھکانے کے لیے
میں تو تیار ہوں دل، دل سے ملانے کے لیے
ان سے دیوارِ انا کہہ دو گرانے کے لیے
کوئی ملتا نہیں یہ بار اٹھانے کے لیے
میں ہوں بے تاب دل و جان لٹانے کے لیے
آ بھی جاؤ کہ تمھارا ہی سہارا ہے مجھے
” شام بے چین ہے سورج کو گرانے کے لیے”
دل کے ارمان مچلتے رہے دل میں میرے
تم تو آئے تھے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے
وقت کس موڑ پہ لے آیا ہے ہم دونوں کو
کچھ بچا ہی نہیں اب سننے سنانے کے لیے
میں تو حیران ہوں اس طرزِ تعیُّش پہ سحر
لوگ کیا کچھ نہیں کرتے ہیں دکھانے کے لیے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





