درد اتنا مجھے ملا خود سے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
درد اتنا مجھے ملا خود سے
درد ہی ہوگیا شفا خود سے
ہر کوئی مجھ سے روٹھ جاتا ہے
ہو گیا ہوں میں اب خفا خود سے
تو مرے دل میں آئی ہی کب تھی؟
بن گیا تیرا نقش پا خود سے
میں اسے جان دے کر آیا تھا
بے وفا ہو گئی وفا خود سے
یہ تو اللہ کی ہی مرضی تھی
کون ہے جس نے کچھ کیا خود سے
خود سے نا آشنا ہوا کاشف
عشق کو کر کے آشنا خود سے
(نوٹ: یہ غزل "بزم شعر و سخن" کے عالمی مشاعرے کے لیے لکھی گئی تھی)
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
خ
خبیب حسن
28 دسمبر، 2018💔💔💔❤️❤️❤️





