جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

زندگی کے کئی آثار نکل آئیں گے

کلام: فیضان اسعد25 دسمبر، 20182,075قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
زندگی کے کئی آثار نکل آئیں گے
بیج بوتے رہیں اشجار نکل آئیں گے
میرے احباب کے زخموں کے تحائف واللہ
ایک دو چھوڑیئے انبار نکل آئیں گے
روک رکّھا ہے فسادات سے سب کو لیکن
لے کے بارود یہ اخبار نکل آئیں گے
حسن کے دام میں آنے کی تڑپ جاگی ہے
فیصلہ کرتے ہی اغیار نکل آئیں گے
تیری یک لخت صداقت یہ تری تنہائی
ہم نہ کہتے تھے کہ بیزار نکل آئیں گے
سچ کہیں گے وہ سرِ دار پہ چڑھتے چڑھتے
ایسے پاگل بھی تو دو چار نکل آئیں گے
جو قلمکار ہیں گزرے ہیں اسی رستے سے
لکھتے رہیے نئے افکار نکل آئیں گے
سو گئے چین سے بھوکوں کی خبر سے آزاد
بلک* میں ایسے گنہگار نکل آئیں گے
میں بلندی سے گرا جن کے کرم سے اسعد
میرے اپنے ہی کئی یار نکل آئیں گے
*(Bulk)
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

زندگی کے کئی آثار نکل آئیں گے - دی فری لانسر | دی فری لانسر