ٹوٹے ہوئے ہیں پر مجھے پرواز چاہیے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ٹوٹے ہوئے ہیں پر مجھے پرواز چاہیے
میں بے زبان ہوں مجھے آواز چاہیے
تنہائیوں سے لڑتے ہوئے تھک گیا ہوں میں
ویران زندگی میں اک ہمراز چاہیے
دل کی تمام گلیاں ہیں سونی ترے بغیر
اب اِس کو تیرے عشق کا ہی ساز چاہیے
تیرے حسین چہرے میں تھوڑی سی ہے کمی
کچھ تو غرور چاہیے، کچھ ناز چاہیے
خالی ہے تیری کٹیا مگر پھر بھی اے فقیر!
تو خوش ہے کیسے مجھ کو بھی وہ راز چاہیے
مکر و فریب جزوِ سیاست ہے آج کل
یہ بازی جیتنے کو دغاباز چاہیے
جو گفتگو کہ دل میں اتر جائے وہ کرو
جو دل کو فتح کر لے وہ انداز چاہیے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
J
Jamal Hakeem
24 دسمبر، 2018Is zamane me in sab cheezo ka mayassar hojana
Ya rab! Hazratre marwaan ka daur dohraana chahta hai
Chachu allah izza wajal aapki har jaez tamanna aarzoo ko qubool farmaaye aameen 😌





