جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

زندگانی لہو آشام ہوئی جاتی ہے

کلام: کاشف شکیل17 دسمبر، 20181,933قارئین5 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
زندگانی لہو آشام ہوئی جاتی ہے
موت تو ایسے ہی بدنام ہوئی جاتی ہے
صبح افکار پریشاں کی کشاکش ٹھہری
درد میں ڈوبی ہوئی شام ہوئی جاتی ہے
وصل بھی بن نہ سکا باعث تسکیں آخر
زندگی آپ میں کہرام ہوئی جاتی ہے
خواب محشر ہے مرے پارہ جگر گوشوں کا
نیند میرے لیے انعام ہوئی جاتی ہے
آتش عشق میں افراط کی حالت مت پوچھ
جیسے دنیا مری کہرام ہوئی جاتی ہے
جس کو سمجھا تھا کبھی میں نے وفا کی مورت
بے وفا وہ بھی سر انجام ہوئی جاتی ہے
اضطراب دل نادان جُنوں میں مت پوچھ
وحشت اب لرزہ بر اندام ہوئی جاتی ہے
خود فراموشی کا عالَم ہے یہ کیسا کاشف
جستجوئے دل نا کام ہوئی جاتی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (5)

ف
فیضان انجم
18 دسمبر، 2018
ماشاءاللہ بہت زببببردست
ف
فیض حمیدی
17 دسمبر، 2018
کیا کہنے ہیں کاشف بھائی بہت عمدہ کمال است کمال است
A
Adeeb📚✒ ادیب اللہ ادیب
17 دسمبر، 2018
Masha allah awesome bro
ع
عطاء الله سلفی
17 دسمبر، 2018
بہت خوب، زبردست کاشف بھائی
P
Parwez Sadaf
17 دسمبر، 2018
بہت خوب کاشف یہ غزل میری زبان پر رہتی ہے

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

زندگانی لہو آشام ہوئی جاتی ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر