جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

غزل

کلام: شمس الرب خان10 دسمبر، 20181,504قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نطق ہے عجز کا اظہار زبانِ دل میں
سوزِ خاموش ہے دلگیر بیانِ دل میں
دل کے دروازے پہ دیتا ہے جو پہلی دستک
وہی رہتا ہے شب و روز مکانِ دل میں
موند لو آنکھیں اگر کرنا ہو دیدارِ حبیب
چشمِ ظاہر تو ہے اک پردہ جہانِ دل میں
تپتا صحرا بھی پہن لیتا ہے شاخِ گلشن
وقت کھو دیتا ہے پہچان زمانِ دل میں
سر جھکانے کا یہ فرمان عبث ہے کافر
خود ہی خم رہتا ہے سر جائے بتانِ دل میں
بے حسی جرم ہے کیسا یہ بتانا تھا فقط
گھونپ دی شمسؔ نے تلوار نشانِ دل میں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

غزل - دی فری لانسر | دی فری لانسر