جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

غزل

کلام: عبدالغفار زاہد5 دسمبر، 20181,662قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اپنا یہ جو کچھ حال ہے
سب شامتِ اعمال ہے
سارا جہاں ساری زمیں
اپنے لہو سے لال ہے
کیسے نہ لٹتا قافلہ
رہبر ہی بداعمال ہے
جو فکرِ ملت میں ہے گم
یاں وہ بھی مالا مال ہے
دستار پر مت جائیو
اندر سے دامن لال ہے
دنیا کا مت پوچھو میاں!
بس جی کا اک جنجال ہے
اِس دم بچے، اُس دم پھنسے
اک خواہشوں کا جال ہے
ہنستے ہوئے پایا جسے
اندر سے وہ بے حال ہے
کرتوت تو بدلے نہیں
کہنے کو بدلا سال ہے
اس بھیڑ میں تنہا فقط
اک زاہدِ بد حال ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

J
Jamal Hakeem
6 دسمبر، 2018
Rehbar bhi ye humdam bhi ye gum-khvaar humare, Ustad ye qaumo'n ke hai'n me'amaar humare

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

غزل - دی فری لانسر | دی فری لانسر