جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

غزل

کلام: کاشف شکیل23 اکتوبر، 20181,712قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
صنم کا‌ آستانہ دیکھتا ہوں
ولایت کا زمانہ دیکھتا ہوں
خزاں آلود پتوں کی رگوں میں
بہاروں کا فسانہ دیکھتا ہوں
تمھارے ہجر کے لمحے کے جزء میں
زمانے کا زمانہ دیکھتا ہوں
ہزاروں مہ جبینوں کے جلو میں
فقط تم کو یگانہ دیکھتا ہوں
سہام دید کو پہلو بدل کر
میں سوئے دل روانہ دیکھتا ہوں
وطن عشاق کا ہوگا تبھی تو
تمھیں قومی ترانہ دیکھتا ہوں
ہوا ہوں وصل کا طالب میں جب سے
بہانے پر بہانہ دیکھتا ہوں
تمھاری بے وفائی کی زمیں میں
محبت کا خزانہ دیکھتا ہوں
تصور میں تمھارے بازؤں کو
میں اپنا آشیانہ دیکھتا ہوں
میں دیوانہ ہوں کاشف شاعری کا
حقیقت میں فسانہ دیکھتا ہوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

غزل - دی فری لانسر | دی فری لانسر