جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

پندرہ اگست ہے

کلام: کاشف شکیل14 اگست، 20181,657قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یہ بلبلیں چہک رہی ہیں پندرہ اگست ہے
یہ قمریاں پھدک رہی ہیں پندرہ اگست ہے
بہار آج مست ہے، خزاں کا عزم پست ہے
یہ سنبلیں لہک رہی ہیں پندرہ اگست ہے
خمار حریت کا آج سر پہ یوں سوار ہے
طبیعتیں دہک رہی ہیں پندرہ اگست ہے
شجر کی شاخ شاخ پہ، چمن کے ہر گلاب پہ
یہ خوشبوئیں مہک رہی ہیں پندرہ اگست ہے
وطن کی خاک سے وفائے عہد کی قسم لیے
یہ دھڑکنیں دھڑک رہی ہیں پندرہ اگست ہے
فضائے مشکبار کی ہر اک ادا حسین ہے
ہوائیں بھی تھرک رہی ہیں پندرہ اگست ہے
بحالت معانقہ گلوں سے، بوندیں اوس کی
بہارِ جشن تک رہی ہیں پندرہ اگست ہے
کتابِ ہند کے ورق ورق پہ بوالکلام کی
یہ کوششیں جھلک رہی ہیں پندرہ اگست ہے
یہ جشن حریت کے لمحے کاشف آج آ گئے
نگاہیں سب چمک رہی ہیں پندرہ اگست ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

پندرہ اگست ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر