عہد و پیماں کر لیا تھا اس نے آ کر جوش میں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

فل اسکرین دیکھیں
بے خبر تھا دل مرا،میں بھی نہ تھا جب ہوش میں
آیا ایسے وقت ظالم حلقۂ آغوش میں
اب جو کہتا ہوں نبھاو تو نبھاتا ہی نہیں
عہد و پیماں کرلیا تھا اس نے آکر جوش میں
وہ زمانہ اور تھا،مجنوں تھا آپ اپنی مثال
کچھ نہیں ہے آج کے اس عاشق کم کوش میں
ساکنان شہر سے بنتی تھی کب پہلے مری
اور اب تو اور بھی رہتا نہیں میں ہوش میں
پھر چلو مقتل کو لالہ زار کر آئیں حسن
سن رہے ہیں تیغ جاناں آرہی ہے جوش میں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
زمرہ:مشق سخنحمود حسن مبارکپوریٹیگز:#اردو شاعری#غزل#عہد و پیماں#اردو ادب#شاعری#دی فری لانسر اردو میگزین
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!




