بدھ، 28 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مولانا عبد اللہ شائق مئوی: حیات و نقوش

تحریر: طارق اسعد28 اکتوبر، 20261,745قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مولانا عبد اللہ شائق مئوی: حیات و نقوش
فل اسکرین دیکھیں

شہر مئو ناتھ بھنجن کے جن علمائے کرام نے اپنی گونا گوں خدمات کے ذریعہ شہر مئو ودیگر علاقوں میں اسلامی تعلیمات کا غلغلہ بلند کیا اور اس راہ میں اپنی ساری زندگی صرف کر دی ان میں ایک اہم نام مولانا عبد اللہ شائق رحمہ اللہ کا ہے،مولانا علیہ الرحمہ کی ولادت ۵جولائی ۱۸۹۲ ءمطابق ۱۰ ذی الحجہ بروز بقرعید محلہ قاسم پورہ مئو میں ہوئی،آپ کے والد کا نام محمد اساعیل تھا،مولانا عبد اللہ شائق کی طبیعت بچپن ہی سے پڑھنے لکھنے کی طرف مائل تھی،یہی طبیعت وفطرت علم کی راہ میں خوب کام آئی اور آگے کے مراحل آسان ہوئے۔

خاندانی پس منظر:

مولانا نوشہروی آپ کے خاندان کے متعلق رقم طراز ہیں:

"آپ کے خاندان میں اور حضرات بھی دولت علم سے بہرہ مند رہے ہیں،حاجی عبدالقادر مرحوم (آپ کے دادا) کے بھائی میاں محمد داؤد وکیل تھے اور فارغ التحصیل،یہ بزرگ خطاطی میں ید طولیٰ رکھتے تھے،میں نے اپنے زمانہ ورود (مئو) میں مرحوم کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک ورق صفحہ 3،4 دیکھا جس کا خط اصل کتاب (مطبوعہ) سے سر مو مختلف نہ تھا،متن،بین السطور،حاشیہ سب میں اصل خط سے مشابہت تھی،اس طرح وکیل صاحب کے ہاتھ کے کتابوں میں پیوند لگے ہوئے بھی دیکھے جو قدیم علماء کے نصاب علم کا جزو تھا۔"( تراجم علمائے حدیث ہند،مولانا ابو یحیی امام خان نوشہروی،ص:433)

مولانا عبد الحمید رحمانی لکھتے ہیں:

"آپ کا خاندان اپنی وجاہت کے اعتبار سے مئو کے نمایاں خاندانوں میں تھا،خاندانی وجاہت کا آپ کی زندگی پر انتہائی گہرا اثر پڑا اور لباس وخوراک سے لے کر طرز بود ومعاشرت تک پر اس کی بھر پور چھاپ رہی۔"( مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی:2/97)

تعلیمی سفر:

آپ کی تعلیم کی بسم اللہ محلے ہی میں حافظ عبد الباری کے یہاں ہوئی جہاں پر ناظرہ قرآن کا مبارک سفر اختتام کو پہنچا،بعد ازاں کچھ عرصہ انگریزی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مولانا سلطان احمد استاد مدرسہ دار العلوم مئو کے پاس گلستاں اور بوستاں کی قرأت کی،1320ء میں مدرسہ فیض عام کی بنیاد پڑی تو آپ نے اس ادارے میں داخلہ لیا،ایک جگہ لکھتے ہیں: "مجھے فخر ہے کہ فیض عام کی اولین بنیاد میں شرکت کا شرف مجھ خاکسار کو حاصل رہا۔"(یاد ایام،مولانا عبد اللہ شائق مئوی،ماہنامہ آثار مئو،جنوری 1983،ص: 42)

مدرسہ فیض عام مئو میں مولانا محمد احمد مئوی سے بہار دانش،شرح جامی اور شرح وقایہ وغیرہ کتابیں پڑھیں،پھر مدرسہ سعیدیہ بنارس کا قصد کیا اور محدث دوراں مولانا محمد سعید بنارسی سے کچھ عرصہ کسب فیض کیا،پھر آپ کی مسافرانہ طبیعت نے جوش مارا تو کانپور پہنچ کر مدرسہ جامع العلوم میں داخلہ لیا اور مولانا اسحاق بردوانی،مولانا مقبول حسین اور مولانا عبدالرشید وغیرہم سے معقولات ومنقولات کی تعلیم حاصل کی۔آپ کے تعلیمی سفر کا اگلا پڑاؤ آرہ تھا جہاں پر مولانا عین الحق اور مولانا عبد النور کے پاس کچھ عرصہ محو تعلیم رہے،اس کے بعد 1910 ءمیں آپ کا قافلہ شوق دیوبند کے حلقے میں لے گیا جہاں آپ نے مولانا محمودالحسن اور مولانا حسین احمد مدنی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا مگر یہاں زیادہ عرصہ قیام نصیب نہ ہوا اور پندرہ بیس روز کی تعلیم کے بعد وطن مالوف واپس ہو ئے۔مئو پہنچ کر ایک بار پھر مولانا احمد سے کسب فیض شروع کیا،لیکن یہاں بھی استقلال نہ ہوا اور بعض بہی خواہوں کے مشورے سے جمال پور پہنچ کر انگریزی کی تعلیم حاصل کرنے لگے اور ساتھ ہی ساتھ ایک انجمن میں تدریس کاکام بھی انجام دیتے رہے۔

عربی تعلیم کی عدم تکمیل کے سبب آپ کو کافی دقتوں کا سامنا ہوا،اس وجہ سے 1912ء میں دہلی کو روانہ ہوئے،بقیۃ السلف مولانا عبد اللہ غازی پوری مئوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مدرسہ ریاض العلوم میں حافظ صاحب مرحوم سے استفادہ کرنے لگے،یہیں سے 1913 ءمیں فراغت یاب ہوئے۔(ملاحظہ ہو: یاد ایام،مولانا عبد اللہ شائق مئوی،ماہنامہ آثار مئو،جنوری 1983،ص: 42-44)

تدریسی خدمات:

مروجہ تعلیم سے فراغت کے بعد حافظ عبد اللہ غازی پوری کی ہدایت کے مطابق چینیاں والی مسجد (لاہور) میں پیشہ تدریس سے منسلک ہوئے،اس وقت آپ کی عمر محض بائیس سال تھی،بایں وجہ طلبہ نے آپ سے پڑھنے سے منع کردیا اور اپنے سے کم عمر استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے سے انکار کر دیااسی وجہ سے وہاں سے مستعفی ہو نا پڑا،مولانا نوشہروی لکھتے ہیں:

"مدرسہ مسجد چینیاں والی میں (بایمائے حافظ صاحب غازی پوری) مدرسی پر تقرر ہوا جہاں طلبہ اپنے استاد سے عمر میں بڑے قد میں لمبے،دلالت میں متمیز تھے،زمانہ اگر چہ مولانائے عبدالواحد صاحب غزنوی مرحوم کا تھا مگر ان تعارضات میں وہ بھی توافق نہ فرما سکے اور طلبہ نے برملا کہہ دیا کہ ہم ایسے کم سن سے نہیں پڑھ سکتے،یعنی

من خراب کجا وصلاح کار کجا

بہ ایں تفاوت رہ کجا است از تابہ کجا"

(تراجم علمائے حدیث ہند،مولانا ابو یحیی امام خان نوشہروی،ص: 432)

مسجد چینیاں والی سے رخصت ہو کر جمال پور (مونگیر،بہار) میں مدرسہ ہدایت الاسلام کارخ کیا اور وہاں کچھ عرصہ افادہ فرمایا،بعد ازاں اپنے شہر مئو میں قیام کیا اور مدرسہ فیض عام میں علوم ادب وحدیث کی کتابوں کی تدریس کے فرائض انجام دینے لگے،اس درس گاہ سے آپ کا انسلاک ایک لمبے عرصے تک رہا اور اس دوران ایک جم غفیر نے آپ سے کسب فیض کیا۔(ملاحظہ ہو: تذکرہ علمائے اعظم گڑھ،مولانا حبیب الرحمن اعظمی،ص: 253،تراجم علمائے حدیث ہند،مولانا ابو یحیی امام خان نوشہروی،ص: 432)

مولانا عبد الحمید رحمانی لکھتے ہیں:

"1333 ھ سے جامعہ فیض عام مئو میں درس نظامیہ بالخصوص علوم ادب وحدیث کی چوٹی کی کتابوں کی تدریس کے فرائض سے وابستگی ہوئی اور کافی مدت تک شرق ہند کی اس عظیم درس گاہ کے شیخ الحدیث اور صدر مدرس رہے۔"( مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی:2/97)

مدرسہ دار الحدیث مئو کا قیام:

مولانا عبد اللہ شائق کا ایک عظیم کارنامہ مدرسہ اثریہ دار الحدیث کا قیام ہے،مدرسہ فیض عام سے اختلافات وعلیحدگی کے بعد 1954 ءمیں آپ نے مئو شہر ہی میں اس مدرسہ کو قائم کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بہت کم عرصے میں اس مدرسہ نے ترقی کی منزلیں طے کیں اور آج بھی اپنی شعاعیں بکھیر رہا ہے،مولانا محمد اعظمی (سابق شیخ الجامعہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو) لکھتے ہیں:

"حضرت مولانا شائق میں علم ودانش کے ساتھ ہمت مردانہ کے شدید امتزاج نے آپ کی عظیم شخصیت کو دو آتشہ بنا دیا تھا،جب حالات وظروف نے مدرسہ فیض عام میں آپ کی فیض رسانی کے مبارک سلسلے کو منقطع کرنے پر مجبور کر دیا تو کون یہ سوچ سکتا تھا کہ آپ کی علمی غیرت اس صدمہ جانکاہ کو صبر وتحمل کی دبیز چادر میں چھپا دے گی،اور پیرانہ سالی میں زخم خوردہ دل ودماغ ماؤف ہونے کے بجائے تاریخ استقامت وعزیمت میں ایک نئے شاندار باب کا اضافہ کریں گے،معلوم ہوتا ہے کہ دل ودماغ کی ساری صلاحیتیں اور جسم واعصاب کی تمام توانائیاں اپنا اصلی جوہردکھانے کے لیے اسی المیہ کی منتظر تھیں جو مدرسہ دار الحدیث مئو کی تاسیس وقیام کا پس منظر ہے۔"( نقوش وآثار،مولانا محمد اعظمی،ماہنامہ آثار،مئو،فروری 1983،ص: 43-44)

مولانا عبد الحمید رحمانی لکھتے ہیں:

" مئو کے کچھ مقامی حالات کے باعث آپ وہاں سے علیحدہ ہو گئے اور کچھ رفقاء کے تعاون سے آپ نے جامعہ دار الحدیث کی بنیاد ڈالی اور شب وروز ایک کر کے اس درس گاہ کو بام عروج پر پہنچایا اور علمی وتدریسی حیثیت سے اس کو ایک شان امتیاز حاصل ہوئی۔"(مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی:2/97)

مولانا حبیب الرحمن اعظمی لکھتے ہیں:

"مولانا کی اہم خدمات میں ایک مدرسہ کا قیام ہے جسے انھوں نے فیض عام سے الگ ہونے کے بعد دار الحدیث کے نام سے 1374 ہجری مطابق 1954ء میں قائم کیا اور زندگی کے آخری لمحات تک اس مدرسہ کی تنظیم وترقی میں لگے رہے،چنانچہ آپ کی مساعی جمیلہ سے مدرسہ بہت جلد ترقی کے بام عروج پر پہنچ گیا اور قصبہ کے ممتاز مدرسوں کی فہرست میں شمار ہونے لگا،بحمد اللہ یہ مدرسہ آج بھی جاری ہے اور اپنے نہج پر دینی خدمت انجام دے رہا ہے۔"( تذکرہ علمائے اعظم گڑھ،مولانا حبیب الرحمن اعظمی،ص: 253)

تلامذہ:

آپ کے تلامذہ کی فہرست کافی طویل ہے،چند اہم نام یہ ہیں:

مولانا عظیم اللہ مئوی،مولانا عبد المنان اثری،فضا ابن فیضی،ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری،مولانا مختار احمد ندوی،مولانا محمد احمد اثری،مولانا حسین احمد شائقی،مولانا عبد الحکیم فیضی،مولانا محمد اعظمی،مولانا ظہیر الدین رحمانی مبارک پوری وغیرہم۔

طرز تدریس:

مولانا عبد اللہ شائق کا مطالعہ بہت وسیع تھا،معقولات ومنقولات میں ید طولیٰ رکھتے تھے،بایں سبب آپ کی تدریسی صلاحیتوں کو بھی کافی غذا وجلا ملی اور اس کے اثرات آپ کی تدریسی زندگی میں واضح طور پر نظر آتے ہیں،آپ کے شاگرد رشید مولانا محمد اعظمی آپ کے درس کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"حضرت الاستاذ مولانا شائق مرحوم جامع العلوم والفنون ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے بالغ النظر اور قادر الکلام معلم تھے کہ مطالعہ ومراجعہ سے یکسر بے نیاز تھے،کسی مشکل کلام اور پیچیدہ مقام کو حل کرنے کے لیےان کی ذہانت وفطانت نے کبھی کسی سہارے کی ضرورت نہیں محسوس کی،ان کے پڑھانے اور سمجھانے کا ایک خاص انداز تھا جو متعلم کو معلم بنانے کا گر تھا،متعلق عبارت حل کرنے کے لیےپہلے طلبہ کو مکلف ٹھہراتے اور انھی پرعبارت سے مطالب ومقاصد کے استخراج کا بار ڈالتے،پھر دوسرے مرحلے میں طلبہ کے بیان کردہ مطالب ومسائل کی تغلیط وتصویب فرماتے ہوئے عبارت کی تحلیل وتجزیہ اس طرح کرتے کہ مزید تشریح وتوضیح سے پہلے ہی اغلاق واغماض کے سارے پردے تار تار ہو جاتے،یہ منفرد طریقہ تعلیم کسی خاص فن کے ساتھ مخصوص نہیں تھا بلکہ درس حدیث میں بھی بجائے روایت کے زیادہ تر تفقہ ودرایت کا پہلو مرکز بحث ہوتا،افہام وتفہیم کا یہ امتیازی وصف اگر چہ افادیت کے لحاظ سے بہت گراں قدر اور موثر ہے لیکن ہے بہت سخت اور انتہائی محنت طلب۔"(نقوش وآثار،مولانا محمد اعظمی،ماہنامہ آثار،مئو،فروری 1983،ص: 41-42)

مزید لکھتے ہیں:

رب کریم کا بے پایاں فضل وکرم ہے کہ حضرت الاستاذ مولانا شائق صاحب کے منفرد مردم ساز انداز تعلم نے اس گم گشتہ راہ طالب علم کو راہ یابی کا مژدہ سنایا اور ذوق فہم وادراک کو وہ غذا پہنچائی جس نے کلام کی تحلیل وتجزیہ کے ذریعہ معانی ومقاصد تک پہنچنے کے لیے توانائی عطا کی،حضرت استاذ موصوف کا دوسرا عظیم احسان یہ ہے کہ عربی انشاء میں ہم بالکل صفر تھے،عربی انشاء کی تمرین کا سلسلہ مدارس عربیہ میں جاری تو ہے مگر طریقہ تمرین اتنا مفید نہیں ہے کہ طلبہ کو صحیح طور پر ترجمہ عربی یا اردو پر قدرت حاصل ہوسکے،جب ہمیں استاذ موصوف کی خدمت میں عربی انشاء کی تمرین وتدریب کا موقع میسر ہوا تو چند ماہ کی محنت وکوشش سے لغت عربیہ کی اجنبیت پیچھے ہٹنے لگی،عربی فقروں کی تمرینات سے آگے کچھ مختصر مقالے لکھنے کے لیے قلم کی جنبش کی ہمت پیدا ہوئی،استاذ موصوف کو عربی انشاء پر اتنا عبور تھا کہ بلا مبالغہ ان کا عربی اشہب قلم اردو سے بہت زیادہ رواں دواں تھا۔"( نقوش وآثار،مولانا محمد اعظمی،ماہنامہ آثار مئو،فروری 1983،ص: 41-42)

مولانا عبد الحکیم فیضی (سابق شیخ الحدیث مدرسہ عالیہ عربیہ مئو) لکھتے ہیں:

"میں نے اپنے پنج سالہ زمانہ طالب علمی میں آپ کے پاس حدیث میں جامع صحیح للترمذی اور جامع صحیح للبخاری،اصول فقہ میں توضیح مع تلویح،ادب میں دیوان الحماسہ،سبعہ معلقات،مقامات حریری جیسی اہم کتابیں پڑھیں،ادبی کتابیں آپ جھوم جھوم کر پڑھاتے تھے اور مشکل ومغلق الفاظ کو لغات وشروح سے حل کرتے،ادبی سلاست اور لسانی فصاحت وبلاغت آپ کا طرہ امتیاز تھا،اس سلسلے میں کچھ لکھنا آفتاب کو چراغ دکھلانا ہو گا۔"(شفیق استاذ کی یاد میں،مولانا عبد الحکیم فیضی،ماہنامہ آثار مئو،نومبر 1987،ص: 12)

زبان وادب میں مہارت:

مولانا عبد اللہ شائق مئوی کی حیات کا ایک روشن پہلو آپ کی ادب شناسی اور سخن نوازی ہے،اردو وعربی وفارسی زبانوں میں اچھی دست گاہ رکھتے تھے اور شعر وادب کی پر پیچ وادیوں میں بے دھڑک آبلہ پائی کرتے،بایں وجہ شائقؔ تخلص اختیار کر کے شعر وسخن کی آبیاری کی طرف بھی متوجہ رہے،شعر وشاعری کا شوق زمانہ طالب علمی ہی سے شروع ہو گیا جب آپ دہلی میں مولانا عبد اللہ غازی پوری کی درس گاہ میں کسب فیض کر رہے تھے،مولانا عبد الاحد شمشاد لکھنوی سے اصلاح لیتے رہے اور رفتہ رفتہ اس میدان میں بھی اپنا سکہ جما لیا،مولانا محمد اعظمی لکھتے ہیں:

"آپ کو دینی وعربی علوم وفنون میں کمال دسترس حاصل ہونے کے ساتھ فارسی واردو کی لسانی وادبی اور نثری وشعری صنفوں پر بھی عبور تھا،مدرسہ فیض عام میں ہماری طالب علمی نے بار بار مشاہدہ کیا کہ درجات عربیہ وفارسیہ کے پرانے تجربہ کار شیوخ واساتذہ اور دوسرے ادباء وشعراء بھی آپ سے استفادہ کر رہے ہیں،عربی فارسی اور اردو میں شعر وسخن کے آپ مسلم استاد ونقاد تھے۔

آپ کے تلامذہ میں علماء کے علاوہ شعراءکا بھی ایک طبقہ ہے جس میں سے وقت کے شہرہ آفاق اور بلند پایہ شاعر فضا ابن فیضی کو خاص امتیاز حاصل ہے۔"( نقوش وآثار،مولانا محمد اعظمی،ماہنامہ آثار مئو،فروری 1983،ص: 43)

مولانا عبد الحمید رحمانی لکھتے ہیں:

"آپ ایک صاحب ذوق ادیب وشاعر بھی تھے اور نہ صرف اردو اور فارسی بلکہ عربی میں بھی بلیغ اشعار کہتے اور علمی،فکری اور ادبی مضامین لکھتے تھے،شاعری میں شمشاد لکھنوی جیسے اساتذہ آپ کے استاذ تھے اور فضا ابن فیضی جیسے شاعر آپ کے شاگرد ہیں،عربی میں آپ نے مختلف اشعار وقصیدے کہے جن میں شاہ سعود کے استقبال میں کہا ہوا آپ کا قصیدہ جس پر آپ شاہی انعام سے بھی نوازے گئے اور 1345 میں مئو میں منعقدہ آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے اجلاس عام کے موقع پر کہا ہوا قصیدہ نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔"(مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی (2/98))

"مئو ناتھ بھنجن کا شعری منظر نامہ" کے عنوان سے مضمون نگار ذکریٰ خاتون لکھتی ہیں:

" محمد عبداللہ شائق مدرسہ دارالحدیث مئو کے بانی ہیں،درس وتدریس کے پیشے سے وابستہ رہے،اردو فارسی اور عربی زبان وادب پر اچھی دسترس تھی،طبیعت بڑی موزوں پائی تھی،شعروسخن کا ذوق زمانۂ طالب علمی سے تھا،لہٰذاشاعری میں شمشاد لکھنوی کے شاگرد ہوئے،ان کے کلام کا بیشتر حصہ ضائع ہوگیا۔"(https://ncpulblog.blogspot.com/2021/05/blog-post_0.html)

آپ کی جوانی کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ چھپرہ کی کانفرنس میں ایسا جامع قصیدہ پڑھا کہ علامہ امرتسری رحمہ اللہ نے موصوف کو گود میں اٹھا لیا۔(برصغیر ہندو پاک میں عربی ادب،مولانا اقبال احمد کفایت اللہ سلفی،ص: 126)

آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس منعقدہ 1927 ءمیں آپ کا ایک شاہکار قصیدہ درج ہے،جس کے ابتدا میں یہ نوٹ درج کیا گیا ہے:

"پہلے پرچہ میں بتایا گیا ہے کہ علمائے مئو میں ادبی قابلیت کا ثبوت بھی ملتا ہے،انھوں نے کئی ایک قصائد عربی میں اپنے مصنفہ پڑھے،منجملہ ان کے ایک درج ذیل ہے جو محض عربی ادبیت کے لحاظ سے درج کیا جاتا ہے۔"( مجلہ اہل حدیث،امرتسر،4/ مارچ 1927،ص:5)

خطبہ استقبالیہ آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس منعقدہ مئو ناتھ بھنجن:

سرزمین مئو پر آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کا اجلاس 11،12،13 /فروری 1927ء کو مولانا قاضی سلیمان منصور پوری کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں وقت کے کبار اور قدآور علماء کے قدوم سے یہ خطہ منور ہوا،کانفرنس کے مذکورہ اجلاس میں مولانا عبد اللہ شائق نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا،یہ خطبہ اپنے جلو میں معلومات ومعارف کا خزانہ لیے ہوئے ہے،مولانا شائق نے مذکورہ خطبے میں مئو کے تمدنی وسماجی حالات،ضلع اعظم گڑھ (چوں کہ مئو اس وقت اعظم گڑھ کا حصہ تھا) کے علمی کوائف،شہر مئو کی مختصر تاریخ اور علمائے اہل حدیث مئو کی جہود ومساعی کا سرسری تذکرہ اور کانفرنس کی افادیت وغیرہ امور پر روشنی ڈالی،یہ خطبہ استقبالیہ مجلہ اہل حدیث امرتسر کے 25/فروری 1927 ءکے شمارے میں صفحہ 1 تا 5 پھیلا ہوا ہے،یہ خطبہ جہاں ایک طرف مذکورہ بالا معلومات کا سمندر سمیٹے ہوئے ہے وہیں دوسری طرف مولانا شائق کے اعلی ادبی ذوق،حسن تحریر اور زبان وبیان پر گرفت کا عمدہ شاہ کار ہے،علمائے اہل حدیث نے اس خطبہ کی تحسین وتائید کی ہے اور اسے جماعت کی تاریخ کا اہم باب قراردیا ہے،مولانا نوشہروی آپ کے تذکرہ میں لکھتے ہیں:

"بیان میں طلاقت ہے اور تحریر میں ندرت،جس کا اندازہ اس خطبہ استقبالیہ سے ہوسکتا ہے جو آپ نے (1345) کے جلسہ (آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس) منعقدہ مئو میں پڑھا،اس کے ساتھ ہی آپ کا ایک قصیدہ عربیہ بھی ہے۔"( تراجم علمائے حدیث ہند،مولانا ابویحیی امام خان نوشہروی،ص: 432)

ڈاکٹر عبد الرحمن پریوائی لکھتے ہیں:

"(مولانا عبد اللہ شائق )ایک خوش بیان ادیب اور صاحب طرز قلم کار تھے،جیسا کہ ان کا پیش کردہ خطبہ استقبالیہ آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس منعقدہ 1345 اس پر دلالت کرتا ہے۔"( جهود مخلصۃ في خدمۃ السنۃ المطهرة،ڈاکٹرعبد الرحمن پریوائی،ص: 272)

دفاع سنت:

مولانا عبدا للہ شائق مئوی ایک عالم با عمل اہل حدیث تھے،آپ کے دل کے نہاں خانے میں کتاب وسنت کی محبت جاگزیں تھی جسے تدریس کے ذریعہ جلا بخشتے رہے،دوسری طرف آپ نے سنت وحدیث کے خلاف اہل تقلید کے رکیک حملوں کا بھی دندان شکن جواب دیا،آپ کا تصنیفی ورثہ گرچہ قلیل ہے مگر دفاع سنت کے لیے آپ کی جہود قابل شکر ولائق تحسین ہیں،مولانا عبد الحمید رحمانی لکھتے ہیں:

"مئو کی سرزمین گزشتہ ایک سو سال سے تقلید اور اتباع سنت کی کشمکش کا اڈہ رہی ہےاور علمائے حدیث وسنت کو اس راہ میں بڑی قربانیاں ماضی میں بھی دینی پڑیں اور اپنے باہمی اختلافات کی وجہ سے آج بھی دینی پڑ رہی ہیں،اس کشمکش میں خطابتی اور سیاسی پلیٹ فارم پر مولانا عبد اللطیف نعمانی رحمہ اللہ نے تقلید،جمود اور عصبیت کی خوب خوب وکالت ومدافعت کی اور تصنیف وتحریر کے پلیٹ فارم پر مشہور حنفی عالم مولانا حبیب الرحمن اعظمی مدظلہ نے حنفیت،تقلید اور فکری جمود ورکود کو خوب خوب مدلل کرنے کی کوشش کی،ارباب تقلید کی خطیبانہ مساعی کا زور مولانا عبد الرحمن آزاد اور حجۃ الاسلام علامہ ابو القاسم سیف بناری وغیرم رحمہم اللہ نے توڑا اور اتباع سنت کے لیے فضا بنائی اور حامیان تقلید کی تحریری اور تصنیفی کوششوں اور مغلظات کا پردہ سب سے پہلے علامہ عبد اللہ شائق اور علامہ ابو القاسم سیف بنارسی رحمہما اللہ نے چاک کیااور اس کی کامیاب ترین تکمیل فخر المحققین علامہ نذیر احمد رحمانی رحمہ اللہ نے کی۔"( مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی:2/98-99)

مولانا عبد اللہ شائق نے مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی تالیف "الاعلام المرفوعۃ" کے جواب میں "الآثار المتبوعۃ لرد الاعلام المرفوعۃ" نام سے رسالہ لکھا اور مولانا اعظمی کے ہفوات کا مدلل جواب قید تحریر کیا۔( ملاحظہ ہو: تراجم علمائے حدیث ہند،مولانا ابو یحیی امام خان نوشہروی،ص: 434،مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی (2/98)-99)،جهود مخلصة في خدمة السنة المطهرة،ڈاکٹرعبد الرحمن پریوائی،ص: 272)

مولانا محمد ابو القاسم فاروقی نے لکھا ہے کہ یہ کتاب مولانا ابو القاسم سیف بنارسی نے بنارس سے شائع کی تھی۔(علامہ محمد ابو القاسم سیف بنارسی: حیات اور خدمات،مولانا محمد ابو القاسم سیف بنارسی ص: 144)

میدان سیاست میں:

مولانا عبد اللہ شائق ایک عرصہ تک سیاست سے بھی منسلک تھے،تحریک آزادی ہند اور تحریک خلافت میں پیش پیش رہے،بلکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مسند تدریس سے کنارہ کش ہو کر سیاست کی وادیوں میں آبلہ پائی کرنے لگے،مولانا نوشہروی لکھتے ہیں:

"جناب شائق صاحب سیاست میں صحیح کانگریسی عقیدہ پر ہیں اور آج ہی سے نہیں بلکہ عہد خلافت سے آپ کا یہی میلان تھا،چنانچہ جب ملک میں خلافت کا دورقائم ہوا تو آپ نے مسند تدریس چھوڑ کر علم خلافت اپنے ہاتھ میں لے لیا۔"( تراجم علمائے حدیث ہند،مولانا ابو یحیی امام خان نوشہروی،ص: 433)

مولانا عبد الحمید رحمانی لکھتے ہیں:

"آپ نے تحریک آزادی ہند کی راہ میں قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں اور جیل میں سنت یوسفی تازہ کرتے ہوئے قرآن وحدیث کا درس دیتے رہے،انڈین نیشنل کانگریس کے بعض متعصب لیڈروں نے جب کانگریس کی آڑ میں مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی سازشیں شروع کیں تو بہت سے دوسرے مسلمان قائدین کی طرح آپ بھی کانگریس سے دل برداشہ ہو گئے اور آپ کا تعلق غالبا مسلم لیگ سے ہو گیا،لیکن بہر حال اپنے اسلاف علمائے اہل حدیث کے مشن کو زندہ رکھنے کی جد وجہد میں آپ نے امکانی حصہ لیا۔"(مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی:2/100)

تاریخ اعظم گڑھ کے مصنف لکھتے ہیں:

"قصبہ مئو ناتھ بھنجن کی اہم ونامور وپر اثر شخصیت مولانا عبد اللہ شائق کی تھی،ان کے رفقاء کار نے ان کی رہنمائی وقیادت میں اس تحریک(عدم تعاون) کو ایک نئی روشنی بخشی اور قصبہ مئو کو وہ نمایاں حیثیت حاصل ہو گئی کہ کانگریس اور خلافت کمیٹی کے چوٹی کے لیڈران ورہنمایان مولانا محمد علی جوہر،مولانا شوکت علی،پنڈت موتی لعل نہرو،پنڈت جواہر لعل اعظم گڑھ آتے تو مئو بھی ضرور جاتے۔"( تاریخ اعظم گڑھ،حاجی شاہ افضال اللہ قادری،ص: 62)

وفات حسر ت آیات:

علم وادب کا یہ زریں ستارہ 13/ دسمبر 1975 کو اپنی تمام تر رعنائیاں سمیت ہمیشہ ہمیش کے لیے غروب ہو گیا،انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مولانا کا علمی سرمایہ کتنا تھا اس بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہ ہو سکیں،البتہ مولانا محمد اعظمی کی درج ذیل تحریرسے اس کا ایک اندازہ لگایا جا سکتا ہے:

"حضرت مولانا شائق مرحوم کے متروکات میں علمی نقوش وآثار بھی ہیں،مثلاً فتاوے،عربی قصائد،فارسی واردو کلام اور مادہ ہائے تاریخ وغیرہ،امید غالب ہے کہ مولانا کے اخلاف،احباب وتلامذہ کے پاس یہ سرمایہ کسی بھی حالت میں موجود ہو گا،کاش کوئی لائق قدر شناس اٹھتا اور ان قلمی نقوش وآثار کے جمع وتہذیب کی خدمت انجام دے کر صفحات آثار کی قیمت واہمیت کو دو چند کرتا۔"( نقوش وآثار،مولانا محمد اعظمی،ماہنامہ آثار مئو،فروری 1983،ص: 44)

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مولانا عبد اللہ شائق مئوی: حیات و نقوش - دی فری لانسر | دی فری لانسر