جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

آج کی شب

کلام: حمود حسن مبارکپوری6 ستمبر، 20262,256قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آج کی شب
فل اسکرین دیکھیں
آج کی شب شب تنہائی ہے میں ہوں دل ہے
آج کی شب نہ کوئی ساز سخن چھیڑ کہ آج
مئے تنہائی سے ہے پیکر حرماں مدہوش
بوسۂ درد لرزتا ہے جبین دل پر
دجلۂ شوق سے اھلا کی صدا اٹھتی ہے
بھولی یادوں کا سفینہ ہے مگر ساحل پر
ذکر اغیار ترے گیسو ترا عہد وفا
نقش موہوم سا کچھ دل پہ ابھر جاتا ہے
سانس کی تنگ خلاؤں میں کوئی لمحہ ہو
ایک بے نام‌ سی آہٹ پہ بکھر جاتا ہے
کعبۂ دل میں بتان غم رفتہ کا سراغ
مل بھی جائے تو کوئی آذر بے تاب نہیں
دل تراشے بھی جو تعبیر کے اصنام تو کیا
میری آنکھوں میں کوئی سلسلۂ خواب نہیں
بر سر جبر کف جاں سے چھڑا کر بانہیں
ہر نفس آج کی شب سوئے فلک جاتا ہے
لمس خود رفتگی و بوسۂ بیتابی سے
عارض کوکب و مہتاب دہک جاتا ہے
کتنے زہاد نے سجدوں سے گریزاں ہوکر
فکر تنہائی میں پیمان حرم توڑ دیا
کتنے رہبان کلیساؤں سے مہجور ہوئے
کتنے عشاق نے دامان صنم چھوڑ دیا
ہم اسی آس پہ تنہا رہے اک دن اک روز
صبح امید شب یاس کے بعد آئے گی
گوشۂ خواب سیہ تاب سے تا حد نظر
تیری زلفوں کی طرح دہر پہ چھا جائے گی
اب اگر کچھ ہے تو آفاق ہیں محرومی کے
ساعت یاس کی پہنائی ہے میں ہوں دل ہے
ایک اک کرکے بجھی جاتی ہے ہر شمع امید
پھر وہی حوصلہ فرسائی ہے میں ہوں دل ہے
آج کی شب شب تنہائی ہے میں ہوں دل ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

آج کی شب - دی فری لانسر | دی فری لانسر