درِ رسول سے حاصل ہوا تو رخت ہوا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جو ان سے دور ہوا برگِ بے درخت ہوا
جو آ ملا وہ ثمرور، بلند بخت ہوا
وہی جو اور کہیں سے ملا، بنا رخنہ
درِ رسول سے حاصل ہوا تو رخت ہوا
اَٹا پڑا ہے مدینے کی دھول مٹی سے
تمھارا پاؤں زمانے میں رشکِ تخت ہوا
حضور اُن کے کسی سے ہوئی جو گستاخی
تو اس پہ ارض و سما کا مزاج سخت ہوا
اب اس کے لمس پہ قربان ہے جہانِ بدن
وہی لباس جو طائف میں لخت لخت ہوا
مثالِ طفل جو ان کے فراق میں روتا
میں کیوں نہ شہر مدینہ کا وہ درخت ہوا
گداز کر گئی یادِ جمالِ خُلقِ رسول
کبھی جو شاد کا لہجہ ذرا کرخت ہوا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





