اک تیر بھی اس اور صف انداز سے آئے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہر چند نہ وہ نقطۂ آغاز سے آئے
آئے تو اسی رنگ اسی ناز سے آئے
مرنے کا کوئی غم نہیں تھی دفن کی جلدی
لے کر وہ کفن ساتھ کفن ساز سے آئے
بھرتے ہیں دل و جان کے خاکوں میں انھی کو
جو رنگ سخن درد کے اعجاز سے آئے
سینے میں ہے بس معرکۂ زخم تمنا
اک تیر بھی اس اور صف انداز سے آئے
رکھیں گے بڑے شوق سے کشکول جنوں میں
بے تابئ دل عزت و اعزاز سے آئے
کچھ ساغر و بادہ کا فضا میں تو نہیں ہاتھ
رقصاں کیوں سبھی کوچۂ مے باز سے آئے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





