جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ڈال ہے پات کے علاوہ بھی

کلام: عبدالکریم شاد8 جون، 20261,967قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مِل ملاقات کے علاوہ بھی
بھیگ برسات کے علاوہ بھی
لب پہ آتے نہیں سبھی الفاظ
سُن مِری بات کے علاوہ بھی
پیاس کیسے بجھے سرابوں سے
آ خیالات کے علاوہ بھی
کچھ ہے منظر پہ کچھ پسِ منظر
دیکھ حالات کے علاوہ بھی
مدعا یوں سمجھ نہ پائے گا
پڑھ عبارات کے علاوہ بھی
صاف ظاہر ہے تیرے چہرے سے
رنگ ہیں سات کے علاوہ بھی
دن بھی پوری طرح نہیں روشن
رات ہے رات کے علاوہ بھی
اک تبسم پہ اکتفا کب تک
بانٹ خیرات کے علاوہ بھی
ہم نے دیکھا ہے جنگ کا انجام
جیت اور مات کے علاوہ بھی
عشق ہے ما ورائے رنگ و نور
ڈال ہے پات کے علاوہ بھی
شادؔ آباد ایک دنیا ہے
کوچۂ ذات کے علاوہ بھی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ڈال ہے پات کے علاوہ بھی - دی فری لانسر | دی فری لانسر