تھا جو دل میں کہہ نہ پایا دیر تک
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اس نے مجھ کو جب ستایا دیر تک
چین وہ خود بھی نہ پایا دیر تک
کام اپنا آندھیاں کرتی رہیں
ہم نے بھی دل کو جلایا دیر تک
گفتگو ہوتی رہی ان سے مگر
تھا جو دل میں کہہ نہ پایا دیر تک
رات کو غم جاگتے ہی رہ گئے
اور میں بھی سو نہ پایا دیر تک
درجنوں واعظ تھے مدعو درس میں
رات سامع کو جگایا دیر تک
ذوق بگڑا اس قدر اب کیا کہوں
نثر بھی وہ گنگنایا دیر تک
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





