ابھی تو یوں نہ جتاؤ کہ مر چکا ہوں میں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مرا بھی سوگ مناؤ کہ مر چکا ہوں میں
مجھے یقین دلاؤ کہ مر چکا ہوں میں
ہوا کا رخ ہے اِدھر یا اُدھر، مجھے اب کیا
سبھی چراغ بجھاؤ کہ مر چکا ہوں میں
مرا سفر ہے تمھاری نگاہ سے آگے
مجھے نہ راہ دکھاؤ کہ مر چکا ہوں میں
پھر اس کے بعد مرا بوجھ میرے سر ہوگا
ابھی یہ لاش اٹھاؤ کہ مر چکا ہوں میں
کم از کم آج تو اپنی انا سے باز آؤ
مجھے گلے سے لگاؤ کہ مر چکا ہوں میں
تکلفات کی حاجت کہاں رہی باقی
نقاب رخ سے ہٹاؤ کہ مر چکا ہوں میں
اب ایک پل بھی گوارا نہیں ہے دنیا میں
مجھے نہ اور ستاؤ کہ مر چکا ہوں میں
میں اپنی لاش لیے پھر رہا ہوں کاندھوں پر
میں جی رہا ہوں بتاؤ کہ مر چکا ہوں میں
نجوم و شمش و قمر اب بھی ہیں روانی میں
اُنھیں یہ بات بتاؤ کہ مر چکا ہوں میں
یہ التجا ہے مری سارے دوست دشمن سے
دعا کو ہاتھ اٹھاؤ کہ مر چکا ہوں میں
کرو گے یاد کہ یاروں میں شاد تھا کوئی
ابھی تو یوں نہ جتاؤ کہ مر چکا ہوں میں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





