کیا کریں گے جو سکوں پایا نہ غمخوار کے بعد
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دیکھتا تھا نہ میں اس حسن کو اغیار کے بعد
دل نہ آنا تھا پر آیا بڑے اصرار کے بعد
خوشبوئے خوں سے کھنچے آتے تھے بلبل بھی وہیں
ہاتھ رکھتا تھا جہاں بھی گل پر خار کے بعد
روشنی رخ کے تئیں دیتی تھی پیغام سحر
شمع شب بھر نہ جلی حسرت دیدار کے بعد
ایک نادیدہ سا منظر تھا میں دنیا میں کہیں
پھر نمودار ہوا ہجر کے آثار کے بعد
آب ہو، ابر ہو، صرصر ہو یا انسان کوئی
نیند غالب ہے سبھی پر غم بیدار کے بعد
ناصحا! ٹھیک ہے غم خوار ضروری ہے مگر
کیا کریں گے جو سکوں پایا نہ غمخوار کے بعد
دستک مرگ سے کھل جاتا ہے دروازۂ شوق
سخت ہے منتظری فیصلۂ دار کے بعد
چہرۂ سنگ پہ بوسے کی چمک زندہ ہے
اس کو چوما تھا حسن حاصل آزار کے بعد
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





