جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کون سا شخص ہے کیسا مجھے معلوم نہ تھا

کلام: عبدالکریم شاد13 مارچ، 20262,077قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
لوٹنا تھا مجھے پیاسا مجھے معلوم نہ تھا
سوکھ جائے گا وہ دریا مجھے معلوم نہ تھا
جوڑتا رہ گیا تا عمر میں ٹکڑے اپنے
میرا آئینہ تھا ٹوٹا مجھے معلوم نہ تھا
اول اول تو محبت میں مزہ خوب آیا
گم سمندر میں تھا صحرا مجھے معلوم نہ تھا
دوست تو ویسے وفادار ملے تھے مجھ کو
وقت بھی دیتا ہے دھوکا مجھے معلوم نہ تھا
شوقِ دیدار نے شل کر دیے اعصاب مرے
ڈس رہا تھا وہ سراپا مجھے معلوم نہ تھا
وقت کے ساتھ مرے سارے بھرم ٹوٹ گئے
کون سا شخص ہے کیسا مجھے معلوم نہ تھا
میں تو آئینہ بہ کف تھا کہ سنواروں سب کو
ہر کوئی سنگ بہ کف تھا مجھے معلوم نہ تھا
میں نے ہر بار اسے آنکھ چراتے دیکھا
اس نے ہر بار یہ سمجھا مجھے معلوم نہ تھا
کون کم بخت مجھے آنکھ دکھاتا ہے شاد!
میرا ہی عکس ہے، اچھا! مجھے معلوم نہ تھا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کون سا شخص ہے کیسا مجھے معلوم نہ تھا - دی فری لانسر | دی فری لانسر