اتنی چھوٹی ہے یہ دنیا مجھے معلوم نہ تھا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تجھ سا کوئی نہ ملے گا مجھے معلوم نہ تھا
اتنی چھوٹی ہے یہ دنیا مجھے معلوم نہ تھا
تجھ کو دیکھا تو میں سمجھا کہ محبت کیا ہے
اس سے پہلے یہ معما مجھے معلوم نہ تھا
اپنے دیوانے کا قصہ تھا سنایا اس نے
عشق کرنے کا سلیقہ مجھے معلوم نہ تھا
تیرنا آ تو گیا بحرِ محبت میں مجھے
پھر ملے گا نہ کنارا مجھے معلوم نہ تھا
جب اسے جاتے ہوئے دیکھا تو معلوم ہوا
جسم سے روح کا رشتہ مجھے معلوم نہ تھا
اتنا معلوم تھا مہلک ہے محبت کا مرَض
درد بڑھ جائے گا اتنا مجھے معلوم نہ تھا
رات بھر ہنستے رہے چاند ستارے مجھ پر
معنیِ وعدۂ فردا مجھے معلوم نہ تھا
مجھ کو لگتا تھا ترا ہجر گزر جائے گا
تنگ ہو جائے گا رستا مجھے معلوم نہ تھا
چادرِ ضبط میں اوڑھے ہوئے بیٹھا تھا شاد!
مارِ عجلت بھی چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





