دلیر وہ ہے جو اپنے خلاف ڈٹ جائے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہماری رہ سے انا کا غبار چھٹ جائے
یہ فاصلہ جو نظر آ رہا ہے گھٹ جائے
تم اپنے ساتھ اگر آئنہ بھی لے آؤ
تمھاری راہ ابھی پتھروں سے اٹ جائے
اتارنا ہے مجھے رخ سے نقلی چہروں کو
جو تاب لا نہ سکے سامنے سے ہٹ جائے
سوال کرنے لگا ہوں میں اپنے یاروں سے
قریب ہے کہ زمانے سے دل اچٹ جائے
بھری ہوئی ہے ہوا جہل کے غبارے میں
کبھی جو علم کی سوئی چبھے تو پھٹ جائے
فنا سے بر سرِ پیکار ہے بقا میری
سکوں ملے گا اگر ایک بھی نمٹ جائے
مرے وجود سے کیا بڑھ گیا تھا دنیا میں
گھٹے گا کیا جو یہ میرا وجود گھٹ جائے
مخالفین میں سب غم گسار بٹتے گئے
میں چاہتا تھا مرا غم سبھی میں بٹ جائے
سٹا تو لیتے ہو پیروں سے پیر مسجد میں
خدا کرے کہ کبھی دل سے دل بھی سٹ جائے
مخالفین سے لیتے ہیں شاد سب ٹکر
دلیر وہ ہے جو اپنے خلاف ڈٹ جائے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





