جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

غنچۂ آب تہ موج دروں بنتا ہے

کلام: حمود حسن مبارکپوری5 جنوری، 20261,531قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
توڑ کر کہتا ہے وہ دل میرا جوں بنتا ہے
دیکھ یوں یوں نہیں بنتا ہے وہ یوں بنتا ہے
سانس لیتے ہوئے جو تار جنوں بنتا ہے
محشر داغ دروں سوئے بروں بنتا ہے
بحر ہو جائے بیاباں جو کبھی پھینکیں اگر
سنگ وحشت پہ وہ سرمایۂ خوں بنتا ہے
اب کے آمادۂ غرقاب ہوں اس یم میں جہاں
غنچۂ آب تہ موج دروں بنتا ہے
صحرا سہما سا نظر آتا ہے آمد پہ مری
ہر قدم پر مرے اک دشت جنوں بنتا ہے
تشنگی میں ہے وہ تحلیل ہراسانی کہ یوں
سایۂ ابر رواں زار و زبوں بنتا ہے
گرمئ دید سے ہے کار چراغانی اسے
چشم سا جائے نگہ طاق فسوں بنتا ہے
مانئ زخم کہن وہ ہے شرابور لہو
پرتو خوں ہی سر پردۂ گوں بنتا ہے
ہوتا مقدور تو سینے میں بناتا روزن
غور کرتا سر دل کیسے سکوں بنتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

غنچۂ آب تہ موج دروں بنتا ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر