نعتِ سلطانِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وہ شوق کہ دیدار کو ترسائے مدینہ
دل وہ ہے جسے ہر گھڑی یاد آئے مدینہ
ہر نقشِ کفِ پا ہے اسی شہر کے صدقے
اے کاش کسی موڑ پہ آ جائے مدینہ
سلطانِ مدینہ کے قدم جب سے پڑے ہیں
پھولوں سے بھرا رہتا ہے صحرائے مدینہ
ہر وقت وہاں ابرِ کرم سایہ فگن ہے
موسم ہو کوئی دہر میں راس آئے مدینہ
دامن سے الجھتے ہی نہیں خار یہاں کے
شاداب سدا رہتے ہیں گل ہائے مدینہ
ہر ذرہ یہاں صل علی پڑھنے میں مشغول
پر نور نظر آتے ہیں اجزائے مدینہ
ہر رات مرے خواب میں آ جائیں وہ کوچے
دل روز تصور میں چلا جائے مدینہ
اس شخص کو کوثر کا مزہ کیسے ملے گا
جس شخص نے پی ہی نہیں صہبائے مدینہ
اس زائرِ خوش بخت کی آنکھوں کو نہاروں
جو دیکھ کے آیا ہے سراپائے مدینہ
اتنی سی گزارش ہے قیامت کے فرشتو!
لکھنا مری تعریف میں شیدائے مدینہ
آنکھوں کو لبھاتے نہیں دنیا کے مناظر
ہر وقت مرے سر میں ہے سودائے مدینہ
اک اور برس شاد کو دے دے مرے مولا
ممکن ہے وہ اس سال چلا جائے مدینہ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (2)
ش
شميم عرفاني
9 دسمبر، 2025بہت خوب زبردست
ما شاء الله تبارك الرحمن
زادكم الله شرفا وعزا و سعادة و زادكم من فضله و توفيقه.
ص
صلاح الدین مقبول احمد
9 دسمبر، 2025ماشاء اللہ بہترین نعت ہے.
کچھ مصرعوں میں شبہات کے ازالہ کے لیے تبدیلی کرنے کا مشورہ ہے:
1- دل وہ جو کبھی بھول ہی نہ پائے مدینہ
2- ہر نقش کفِ پا ہے اسی شہر کا خواہاں
3- ہر سو ہے یہاں صل علٰی ورد کا جلوہ
4- اتنی سی گزارش ہے مری میرے فرشتو





