کیسے کہوں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دل میں آشوب قیامت ہے مگر کیسے کہوں
"مری جاں تم سے محبت ہے مگر کیسے کہوں"
یہ جو چہرے پہ کئی رنگ نظر آتے ہیں
ہے پتا کس کی شرارت ہے مگر کیسے کہوں
تیری جانب میں کھنچا جاتا ہوں رفتہ رفتہ
ضبط سے تنگ طبیعت ہے مگر کیسے کہوں
اس نے پوچھا ہے مرا حال بڑی مدت بعد
یوں تو دیوانوں سی حالت ہے مگر کیسے کہوں
دل کی دنیا پہ مری جان ہمیشہ کی طرح
آج بھی تیری حکومت ہے مگر کیسے کہوں
سامنے تو ہے مگر پھر بھی کمی ہے تیری
تیری نظروں سے شکایت ہے مگر کیسے کہوں
میرے پہلو میں مرے دل میں مری آنکھوں میں
ایک معصوم سی حسرت ہے مگر کیسے کہوں
کیسے کہہ دوں کہ چلے آؤ مری دنیا میں
خامشی وجہِ اذیت ہے مگر کیسے کہوں
ان کی رسوائی مرے شوق کو منظور نہیں
شاد، اقرارِ حقیقت ہے مگر کیسے کہوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





