نواسی مان لیا بارہا اناسی کو
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نہ دوست جانیے ہر ایک آس پاسی کو
مگر جو بھانپ لے ہنستی ہوئی اداسی کو
نظر کے زاویے بدلے تو اس قدر بدلے
لباس مان لیا سب نے بے لباسی کو
دلِ تباہِ محبت کا حال کیا کہیے
یہ بادشاہ ترستا ہے ایک داسی کو
پھر اس کے بعد نہ وہ شخص بے حجاب ہوا
نہ کوئی جان سکا میری بد حواسی کو
کوئی ہٹا نہ سکا پردۂ گمانِ نظر
نہ کوئی دیکھ سکا میری بے لباسی کو
عجیب حال رہا عشق کی ریاضی کا
نواسی مان لیا بارہا اناسی کو
بریڈ کیسے نباہے گی ساتھ روٹی کا
ملی ہے شہر کی معشوق گاؤں باسی کو
وہ مانتا تھا کہ دولت ہے باعثِ تسکین
پھر اس نے دیکھ لیا شاد کی اداسی کو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





