درد کا تیرے کسی طور تو حل نکلے گا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
راہ تعبیر میں گر پہلے پہل نکلے گا
پیکر خواب مری آنکھ سے شل نکلے گا
یوں نہیں ہے کہ نہیں نکلے گا، چل، نکلے گا
درد کا تیرے کسی طور تو حل نکلے گا
میں نکل جاؤں مگر وہ نہیں نکلے گا کبھی
پھر بھی دل کہتا ہے تو پہلے نکل، نکلے گا
ایسا ممکن ہی نہیں آنکھ سے نکلے نہ لہو
درد کھا، سانس نہ لے، آنکھ مسل، نکلے گا
کیوں نہیں نکلے گا سامان سخن کا جذبہ
موم کی طرح سر شام پگھل، نکلے گا
گھر سے کب نکلے گا آسانی سے وہ تیرے لیے
چیخ، چلا، سر بازار مچل، نکلے گا
سب سے پہلے میں چکھاؤں گا تجھے ہی ظالم
صبر کے پیڑ پہ جس روز بھی پھل نکلے گا
کچھ نہ نکلے گا زمانوں کو اگر کھودیں تو
غم کا سرمایہ تہہ خاک ازل نکلے گا
وحشتیں آخری حالت کو پہنچ آئی ہیں
سینۂ شب سے بس اب دست اجل نکلے گا
شک نے گھیرا ہے کچھ ایسے کہ اگر غور کریں
میری ہر بات میں بس "ہمزہ و ھل" نکلے گا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





