وہ نہ لوٹا کبھی پھر ندی کی طرف
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اس نے دیکھا تھا مجھ اجنبی کی طرف
میں نے دیکھا نہیں پھر کسی کی طرف
ساتھ دیتا نہیں کیوں مقدر مرا
پاؤں بڑھتے تو ہیں اس گلی کی طرف
پھر کسی سے ہوا سامنا ایک دن
پاؤں مڑنے لگے زندگی کی طرف
یاد آتی ہے کاغذ کی کشتی مجھے
دھیان جاتا ہے سوکھی ندی کی طرف
آج پھر ایک لڑکی سسکنے لگی
دیکھ کر اک نظر پالکی کی طرف
چار جانب اندھیروں کا آشوب تھا
دھیان جاتا کہاں روشنی کی طرف
موت آواز دیتی رہی عمر بھر
کان تھے زیست کی بانسری کی طرف
جو سمندر کی جانب روانہ ہوا
وہ نہ لوٹا کبھی پھر ندی کی طرف
دوڑتی ہے سرابوں کی جانب نظر
عقل مائل ہے دیوانگی کی طرف
دن گزرتا ہے سورج کو تکتے ہوئے
رات بھر دیکھتا ہوں گھڑی کی طرف
کیا کہا قیس ہوتے نہیں آج کل
دیکھ لیتے کبھی شاد جی کی طرف
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





