جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اب اپنا اپنا چلو احتساب کرتے ہیں

کلام: دانش جمال20 جولائی، 20252,059قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جو بے سبب ہی کسی پہ عتاب کرتے ہیں
وہ صرف اپنا ہی خانہ خراب کرتے ہیں
جو اپنے حق میں جنوں انتخاب کرتے ہیں
وہی جہاں میں کوئی انقلاب کرتے ہیں
ہم ان کے نام غزل انتساب کرتے ہیں
ہر ایک شعر کو یوں آفتاب کرتے ہیں
نگہ سے جب بھی ہمیں وہ خطاب کرتے ہیں
گمان ہوتا ہے کارِ ثواب کرتے ہیں
ہم ایسے رند کی فن آفرینی مت پوچھو
کتابِ حسن میں چہرہ نصاب کرتے ہیں
مزید بحث کی باقی نہیں ہے گنجائش
اب اپنا اپنا چلو احتساب کرتے ہیں
سلف کے اسوے کو کرتے ہیں حرز جاں جب بھی
تو عہدِ رفتہ کو پھر بازیاب کرتے ہیں
تم ان کے حسنِ تکلم پہ یوں ہی مت جانا
سخن کو خار تو لہجہ گلاب کرتے ہیں
جہاں کسی سے وہ ملتے نہیں ہیں خلوت میں
مجھے ہے فخر مجھے باریاب کرتے ہیں
حیات دیتی ہے دانشؔ جنھیں بھی تحفۂ غم
تمام عمر وہ بیٹھے حساب کرتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اب اپنا اپنا چلو احتساب کرتے ہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر