جو آشیاں نظر آتا ہے جال ہوتا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہر ایک دل میں کسی کا خیال ہوتا ہے
ہر ایک دشت میں کوئی غزال ہوتا ہے
دل و دماغ کی بنتی کہاں ہے آپس میں
"مزاج عشق میں کب اعتدال ہوتا ہے"
گلی گلی میں نظر آ رہی ہیں لیلائیں
کہیں کہیں کوئی مجنوں مثال ہوتا ہے
ہر ایک شخص کو دیوانگی نہیں آتی
ہر ایک شخص کہاں باکمال ہوتا ہے
عجیب کیا ہے اگر چاک ہے گریباں میں
یہی تو سب کا محبت میں حال ہوتا ہے
مدارِ شہر میں اڑتے ہوئے پرندے سن
جو آشیاں نظر آتا ہے جال ہوتا ہے
درختِ صبر کی شاخیں بلند ہیں لیکن
ہمارے ہاتھ میں کیا کم اچھال ہوتا ہے
وصال یار کے آثار بھی نہیں ہیں شاد
نہ زیست کا ہی کوئی احتمال ہوتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





