جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

دعوت ترے لیے ہے عداوت ترے لیے

کلام: عبدالکریم شاد23 جون، 20251,904قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کرتے ہیں نوش جامِ شہادت ترے لیے
دعوت ترے لیے ہے عداوت ترے لیے
صدق و صفا سے ہو گیا گلزار یہ جہاں
یارانِ غار کر گئے ہجرت ترے لیے
نکلے تھے گھر سے قتلِ نبی کے لیے مگر
بدلی عمر نے اپنی طبیعت ترے لیے
مشکل گھڑی میں دیکھی صحابہ نے بارہا
عثمان کی تمام سخاوت ترے لیے
میدانِ کارزار ہو یا رزمِ زندگی
قربان ہے علی کی شجاعت ترے لیے
تیرے ہی دم سے رونقِ کون و مکان ہے
ہر چیز دے رہی ہے شہادت ترے لیے
تو نے ہی ہر کلی کو تبسم کناں کیا
گریہ کناں ہے چشمِ ریاضت ترے لیے
تو ہی درختِ صبر کو کرتا ہے بارور
برداشت ہے ہر ایک مصیبت ترے لیے
یہ کائنات حاصلِ کن ہے عجیب ہے
سجدے میں ہے جہانِ مہارت ترے لیے
تیرے ہی ذکر و فکر میں گم ہیں دل و دماغ
رہتی ہے دست و پا میں عزیمت ترے لیے
تعریف کیا زبانِ گنہگار سے کریں
ہر قسم کی ہے عظمت و شوکت ترے لیے
دنیا کا کوئی رخ ہو زمانے کا کوئی رنگ
عازم ہے شاد جانبِ جنت ترے لیے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

دعوت ترے لیے ہے عداوت ترے لیے - دی فری لانسر | دی فری لانسر