جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مرے احباب سمجھتے تھے بڑا دانا مجھے

کلام: عبدالکریم شاد14 جون، 20251,704قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بھیجتا ہے کبھی مسجد کبھی مے خانہ مجھے
دل سے ملتا ہے نیا روز ہی پروانہ مجھے
کیا پتا حور پہ آ جائے مرا دل واعظ!
ایک بار اور ذرا ٹھیک سے سمجھانا مجھے
ٹوٹ جاتی ہیں اٹھائی ہوئی سب دیواریں
ڈھونڈ لیتا ہے مقدر کا ہر اک دانہ مجھے
ایک دن دیکھ لیا چاک گریبان مرا
مرے احباب سمجھتے تھے بڑا دانا مجھے
جانبِ کوہ چلا میں بھی اٹھا کر تیشہ
وہ سناتے رہے فرہاد کا افسانہ مجھے
میرے ہونٹوں میں سمٹ آیا ہے صحرائے فلک
اب تو کافی نہیں ساقی! ترا پیمانہ مجھے
موت پر پہلی نظر میں ہی ہوا دیوانہ
زندگی یاد دلاتی رہی یارانہ مجھے
اک براہیم کلہاڑی لیے بیدار ہوا
ایک آزر جو بنانے چلا بت خانہ مجھے
شاد کس مرحلۂ شوق تک آ پہنچا ہوں
حرکتیں قیس کی اب لگتی ہیں بچکانہ مجھے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مرے احباب سمجھتے تھے بڑا دانا مجھے - دی فری لانسر | دی فری لانسر