جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

شمار جاں سے نکل روح کی قطار میں آ

کلام: حمود حسن مبارکپوری12 جون، 20251,892قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دروں میں پھیل خود آگاہئ حصار میں آ
شمار جاں سے نکل روح کی قطار میں آ
یہ کائنات کی تنگی کہاں تک اے غم دل
کبھی تو زیر زمیں وسعت قرار میں آ
کوئی بھی شے ہو مری دسترس میں کچھ بھی نہیں
سو کم سے کم مرے دل تو تو اختیار میں آ
یوں آ کہ آنے پہ محسوس ہو کہ آیا ہے
شب فراق میں آ کرب انتظار میں آ
بجھے دنوں کا مداوا تو یہ نہیں پھر بھی
بیاد رنگ شکستہ بھری بہار میں آ
رہ سیہ میں ہے سنگ جنوں کو سر درکار
متاع گل! جسد شعلۂ و شرار میں آ
کھلیں گے شہرت داغ جنوں کے راز سبھی
شب فراق قفس ہائے دل فگار میں آ
نہ مل سکے کوئی تعبیر تو رہوں مدہوش
حقیقتوں سے پرے خواب کے خمار میں آ
میں خود کو خاک بنا لوں بنام شوق سفر
وہ یہ بھی کہہ دے اگر پیکر غبار میں آ
اگر چہ نیک نہیں پر وہیں ملوں گا تجھے
تلاش کرتے ہوئے حلقۂ خیار میں آ
مثال گور غریباں ظہور ہے اپنا
چراغ کشتہ جہاں ہو اسی دیار میں آ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

شمار جاں سے نکل روح کی قطار میں آ - دی فری لانسر | دی فری لانسر