توحید کے لیے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہر راہ سے گزرتے ہیں توحید کے لیے
ہم جیتے اور مرتے ہیں توحید کے لیے
توحید کے لیے ہیں ہماری حیات و موت
شام و سحر نکھرتے ہیں توحید کے لیے
کس نے بتوں کو توڑ کے سمجھایا قوم کو
کیا کیا سلیقے برتے ہیں توحید کے لیے
کیا بات تھی کہ آگ بھی گلزار ہوگئی
یہ معجزے ابھرتے ہیں توحید کے لیے
صحرا میں چھوڑ آتے ہیں اہل و عیال کو
جذبات سے مکرتے ہیں توحید کے لیے
قربانیاں خلیل کی کس کو نہیں ہیں یاد
کیا کیا نہ کر گزرتے ہیں توحید کے لیے
یوسف کی پاک دامنی مشہور ہے تو کیوں
انسان یوں سنورتے ہیں توحید کے لیے
تھکتی نہیں زبان بھٹکتے نہیں قدم
نو سو برس گزرتے ہیں توحید کے لیے
ہر ظلم کو گلے سے لگاتے رہے بلال
خباب آہ بھرتے ہیں توحید کے لیے
دنیا کی زندگی کا مزہ ان سے پوچھیے
جو صبح و شام کرتے ہیں توحید کے لیے
انسانیت نواز ہیں سب کے لیے مگر
میدان میں اترتے ہیں توحید کے لیے
توحید کے لیے ہی سجاتے ہیں لب پہ گل
آنکھوں میں اشک بھرتے ہیں توحید کے لیے
پرواز کرنے لگتا ہے جب حد سے ماسوا
ہم دل کے پر کترتے ہیں توحید کے لیے
جب پھیلتی ہے شرک کی بدبو جہاں میں شاد!
ہم مشک سے بکھرتے ہیں توحید کے لیے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





