غزل وزل
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یوں فیسبک پہ لڑنا جھگڑنا فضول ہے
اڑتا ہر ایک تیر پکڑنا فضول ہے
ہم نے تو آئنہ ہی دکھایا جناب کو
وہ سنگ پھینکتے ہیں تو لڑنا فضول ہے
اپنی ہی دُم پہ پاؤں نہ رکھا کریں جناب
اپنے کیے پہ آپ بگڑنا فضول ہے
اپنی صدا کو آپ نے سمجھا صدائے خلق
اب غیر کی زبان پکڑنا فضول ہے
مانا کہ بات رکھنے کا حق ہے جناب کو
اپنی ہر ایک بات پہ اڑنا فضول ہے
مسرور ہو رہے ہو مریدوں کی بھیڑ سے
ان بلبلوں کے دم پہ اکڑنا فضول ہے
آؤ اجاڑ ڈالیں عداوت کی بستیاں
دنیائے فیسبک کا اجڑنا فضول ہے
جب کاٹ دی گئی ہیں دِوانوں کی انگلیاں
ایسے میں گیسوؤں کا بگڑنا فضول ہے
ہم بس تماش بین ہیں کیا تبصرہ کریں
اہل جنوں کے بیچ میں پڑنا فضول ہے
حائل رہے جو مارک زکربرگ درمیاں
اس طور شاد ملنا بچھڑنا فضول ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





