کیسے کیسے خیال آتے ہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وہ برائے وصال آتے ہیں
کیسے کیسے خیال آتے ہیں
میزبانی ہی دل کی ایسی ہے
روز رنج و ملال آتے ہیں
کیا بتائیں ہم اپنی محرومی
خواب میں بھی خیال آتے ہیں
دیکھتی ہے مری نظر کیا کیا
دل میں کیا کیا سوال آتے ہیں
قیس! کچھ انتظام ہے کہ نہیں
شہر سے ہم نڈھال آتے ہیں
کس طرح حور کا خیال آئے
راہ میں خوش جمال آتے ہیں
ڈوب جاتے ہیں لوگ ساحل پر
ہم سمندر کھنگال آتے ہیں
بانٹ لیتے ہیں درد صحرا سے
اشک دریا میں ڈال آتے ہیں
روز ہم ضبط کے درخت پہ شاد
ایک پتھر اچھال آتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





