جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

محو ہونے کو ہے آرزوئے سخن

کلام: حمود حسن مبارکپوری2 مئی، 20251,799قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
محو ہونے کو ہے آرزوئے سخن
فل اسکرین دیکھیں
محو ہونے کو ہے آرزوئے سخن ساز گفتار یاراں بکھر جائے گا
ہجر کی دھوپ پڑتی رہے گی سدا مژدۂ ابر باراں بکھر جائے گا
رقص گاہ تمنا میں وحشت بھرے تھرتھراتے دیوں کی نگاہوں تلے
ہوش اڑ جائیں گے ساقیوں کے سبھی بادۂ بادہ خواراں بکھر جائے گا
زہر گھل جائے گا ہجر کا دل بہ دل، جاں بہ جاں موسم یاد رہ جائے گا
خشک ہو جائیں گے شیشۂ رنگ و بو جام شوق بہاراں بکھر جائے گا
دور تک پھیل جائے گی راہ الم کو بہ کو درد ہی درد ہوگا یہاں
محفل گریہ و زاری کے درمیاں گوشۂ غم گساراں بکھر جائے گا
سرد پڑ جائیں گے سلسلے شوق کے آہ تھم جائے گا محشر بے خودی
خواب ہو جائے گی شام دشت جنوں مجمع بے قراراں بکھر جائے گا
ہائے عجلت میں شام و سحر کٹ گئے وقت کے سارے روشن دیے بجھ گئے
اب یوں ہی ہاؤ ہو کے سفر میں کہیں رنگ نام فگاراں بکھر جائے گا
خواہش و جستجو اب کہاں میری جاں! سامنے ہے سراب تمنا، جہاں
ٹوٹ جائیں گے فن کے ستارے سبھی منظر خوش نگاراں بکھر جائے گا
آخری شب ہے بزم طرب میں تری پھر خدا لے کے آیا یہاں پر اگر
تیری خوشبو رہے گی ہمارا مگر قصۂ خوش گواراں بکھر جائے گا
جب وہی تشنہ کامی مقدر رہی پھر کسی کی حسٓن جستجو کیوں کریں
ہم کو معلوم ہے عشق کی راہ میں ذکر ایفا شعاراں بکھر جائے گا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

محو ہونے کو ہے آرزوئے سخن - دی فری لانسر | دی فری لانسر