جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ہمیں ملال نہ ہو تو ملال ہوتا ہے

کلام: عبدالکریم شاد21 فروری، 20251,481قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کسی کے عشق میں جب دل نہال ہوتا ہے
کہاں خیالِ فراق و وصال ہوتا ہے
جواب دے گا کہاں تک دماغ بے چارہ
ہمیشہ ہی کوئی دل میں سوال ہوتا ہے
خرد تو بھیس بدل کر گزر ہی جاتی ہے
جنوں کا آنکھ بچانا محال ہوتا ہے
وجود عشق کا ہوتا ہے کیا خدا معلوم
یہ ماورائے عروج و زوال ہوتا ہے
ہم ایسے لوگ مزاجاً عجیب ہوتے ہیں
ہمیں ملال نہ ہو تو ملال ہوتا ہے
کسی دوانے سے جب تک نہ گفتگو کرلیں
کہاں مزاج ہمارا بحال ہوتا ہے
جدھر سراب دکھا، چل دیے اسی جانب
کہاں خیالِ جنوب و شمال ہوتا ہے
پھر اس کے بعد سرابوں سے پیاس بجھنے لگی
یہی تو کارِ جنوں کا مآل ہوتا ہے
جنوں کے پانو کہاں روکنے سے رکتے ہیں
بدن اگرچہ سفر سے نڈھال ہوتا ہے
یہ کائنات جو اتنی حسین لگتی ہے
نظر میں شاد کوئی خوش جمال ہوتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ہمیں ملال نہ ہو تو ملال ہوتا ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر