اٹھارہ کو لکھا اس نے اِکاسی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مرے پہلو میں ہے اک دیوداسی
نہ جانے روح کیوں رہتی ہے پیاسی
میسر ہے ہر اک سامانِ عشرت
مگر جاتی نہیں سالی اداسی
خزاں کی آندھیوں سا اس کا لہجہ
گزرتی ہے تو لگتی ہے صبا سی
مرے ہر لفظ میں صدق و محبت
مگر اس کا ہر اک جملہ سیاسی
محبت کو مصیبت پڑھ گئی وہ
اٹھارہ کو لکھا اس نے اِکاسی
جہاں مجنوں نے کی صحرا نوردی
میں کاشف ہوں اسی دنیا کا باسی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





