ایک ذرّہ بھی ملے پیار اٹھا لیتے ہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ٹھیک ہے، چھوڑئیے تکرار، اٹھا لیتے ہیں
آپ کہتے ہیں تو اِس بار اٹھا لیتے ہیں
منتظر ہیں وہ لگاتار، اٹھا لیتے ہیں
کچھ نہ بولو بخدا یار، اٹھا لیتے ہیں
اِس لیے لوگ ہیں خاموش کہ اُن کے آگے
جو کریں جرأتِ اظہار اٹھا لیتے ہیں
اُن کو معلوم ہے یہ کچھ بھی نہیں بولیں گے
اِس لیے دو کی جگہ چار اٹھا لیتے ہیں
اِس قدر ترسے ہوئے ہیں کہ کہیں پر ہم کو
ایک ذرّہ بھی ملے پیار اٹھا لیتے ہیں
بے گناہی پہ نہ اِتراؤ کہ اٹھانے والے
بے گنہ ہو کہ گنہ گار، اٹھا لیتے ہیں
نام تو چھوڑئیے کپڑوں کی بنا پر حاتؔم
وہ ہمیں بول کے غدار، اٹھا لیتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





