جس قدر دیکھو چاہ بڑھتی ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جب شب ہجر آہ بڑھتی ہے
موت سے رسم و راہ بڑھتی ہے
کیا کشش، ہے رہین حسن صنم؟
جس قدر دیکھو چاہ بڑھتی ہے
ذکر ہوتا ہے بے بسی کا جب
دل کی جانب نگاہ بڑھتی ہے
جنبش رنج کو بہ رنگ جرس
اک صدائے کراہ بڑھتی ہے
ہوش میں دیکھ کر ہمیں یکسر
بے خودی بے پناہ بڑھتی ہے
صرف بڑھتی کہاں ہے عمر عزیز
کرکے سب کچھ تباہ بڑھتی ہے
منزل شوق کی مسافت میں
مستقل گرد راہ بڑھتی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
Z
Zubair Ahmad
26 نومبر، 2024بہت خوب





