اک برف کا ٹکڑا تھا اور ہم نے گہر جانا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وہ عشق کی بستی ہے ہرگز نہ ادھر جانا
جانا تو زمانے سے یک لخت مکر جانا
گزرے ہیں نگاہوں سے کتنے ہی حسیں لیکن
دل نے تو فقط تم کو منظورِ نظر جانا
پینے کو تو پیتے ہیں ہونٹوں سے لگا کر مے
آتا ہے کہاں سب کو ساغر میں اتر جانا
پھر شام وہی آئی پھر صبح وہی ہوگی
ہر روز سمٹ جانا ہر روز بکھر جانا
غمگین بھی کرتا ہے تسکین بھی دیتا ہے
اک طرفہ تماشا ہے یہ عشق میں مر جانا
آنکھوں میں تحیر ہے ہاتھوں میں پشیمانی
اک برف کا ٹکڑا تھا اور ہم نے گہر جانا
جب بارِ تہی دستی سے پانو شکستہ ہوں
آسان نہیں ہوتا مزدور کا گھر جانا
ممکن ہے محبت میں شاد ایسے دوانوں کا
صحرا میں اتر جانا دریا سے گزر جانا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
Z
Zubair Ahmad
26 نومبر، 2024آساں نہیں ہوتا مزدور کا گھر جانا
بہت خوب





