جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کچھ شوق کی قسمت میں ابھی در بدری ہے

کلام: حمود حسن مبارکپوری13 اکتوبر، 20242,051قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دل محو تماشایے غم جاں سے بری ہے
پھر کیسی در و بست میں شوریدہ سری ہے
اک دل ہے کہ صحراؤں سی وحشت ہے یہاں پر
اک جاں ہے کہ رگ رگ میں اذیت ہی بھری ہے
آنکھیں ہیں کہ شمشیر بہ کف جیسے مجاہد
میدان محبت میں شہادت ہی دھری ہے
جس دم کہ ہمیں چھوڑ گیا تھا وہ سر خواب
دائم ہے وہی حال وہی بے خبری ہے
ہر چند قبا چاک ہوئی ہوش و خرد کی
پر عشق نے سمجھایا یہی دیدہ وری ہے
باقی ہیں ابھی اور بھی خم زلف جہاں میں
کچھ شوق کی قسمت میں ابھی در بدری ہے
چلتے چلے جاتے ہیں پہ منزل نہیں آتی
سچ مچ یہ سفر ہے کہ فقط بے سفری ہے
ہم چاہ کے بھی جب نہیں ہو پاتے فسردہ
ان کے ہی تغافل میں کوئی بے اثری ہے
دامن ہو کہ ہو سینۂ صد چاک ہمارا
لا ریب ترے ہاتھ میں ہی بخیہ گری ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

س
سراج عالم زخمی
13 اکتوبر، 2024
بہت بہترین کلام ہے در بہ دری والے شعر میں کچھ ٹائپنگ کی غلطی ہے وزن برابر نہیں آ رہا

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کچھ شوق کی قسمت میں ابھی در بدری ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر